پیر 1 جون 2026 - 22:24
غدیر "کلِ دین" کے برابر ہے / توحید کے حصول کی شرط "ولایت" ہے

حوزہ/ مجتمع حوزوی امام رضا (ع) کے متولی نے کہا: غدیر کو ایک تاریخی واقعے کی حد تک محدود نہیں کرنا چاہیے کیونکہ واقعۂ غدیر ایک جاری سمندر ہے اور انسان کے معرفتی اور عملی شعبوں میں توحید کے تحقّق کی شرط ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجتمع حوزوی امام رضا (ع) کے متولی اور حوزه علمیه تہران کی صوبائی کمیٹی کے سربراہ استاد علی اکبر رشاد نے "مدرسہ علمی بہارہ" میں منعقدہ ایک پروگرام میں "رضوی تعلیمات میں امامت" کے موضوع پر گفتگو میں غدیر کو "سمندر" اور "کلِ دین" قرار دیا اور حدیث سلسلۃ الذہب سے استناد کرتے ہوئے کہا: ولایت، خارجی میدان میں توحید کے حصول کی شرط ہے۔

انہوں نے غدیر کے بلند مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بدقسمتی سے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ غدیر محض ایک تاریخی واقعہ ہے حالانکہ اس واقعے کی ایک وجودی حیثیت ہے اور یہ ایک مسلسل اور ہمیشہ جاری رہنے والا سمندر ہے۔

مجتمع حوزوی امام رضا (ع) کے متولی نے کہا: امامت اور ولایت کا مسئلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے آغاز سے لے کر آپ کی حیات کے آخری لمحات تک موجود رہا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ولایت کوئی معمولی اور ضمنی تعلیم نہیں ہے بلکہ یہ دین کی ایک شکل اور اس کی کلیت کی نمائندہ ہے۔ گویا ولایت پورے دین کے برابر ہے۔

حوزه علمیه تہران کی صوبائی کمیٹی کے سربراہ نے امام رضا علیہ السلام کی مشہور حدیث سلسلۃ الذہب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت نے نیشاپور میں فرمایا: "لا الہ الا اللہ حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی" اور فوراً اس کی شرط بیان فرمائی "بشروطہا و انا من شروطہا" یعنی ولایت کے بغیر توحید، توحید نہیں ہے۔ اگر شرط ختم ہو جائے تو مشروط (توحید) بھی باقی نہیں رہتا۔

استاد علی اکبر رشاد نے حدیث سلسلۃ الذہب کو قدسی احادیث میں شمار کیا جو الہی تعلیمات کا خلاصہ اور لب لباب ہے اور کہا: جس طرح خطبہ فدکیہ نہج البلاغہ کا خلاصہ ہے اور زیارت جامعہ کبیرہ اہل بیت علیہم السلام کے معارف کا لب لباب ہے، اسی طرح یہ حدیث قدسی بھی پورے دین کا دقیق معنوں میں خلاصہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha